انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کالجوں سمیت سرکاری عمارتوں کے نام تبدیل کیوں کیے جا رہے ہیں؟

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے درجنوں کالجوں، سکولوں، سڑکوں اور سرکاری عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

چھ نومبر کو جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں واقع ’گورنمنٹ ڈگری کالج، کیلم‘ کا نام بدل کر ’الطاف میموریل گورنمنٹ ڈگری کالج، کیلم’ رکھ دیا گیا ہے۔

الطاف احمد ڈار کشمیر میں ایک پولیس انسپیکٹر تھے جو 2015 میں شمالی کشمیر میں ایک پسند حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں الطاف احمد کا کردار بہت اہم تھا۔

وہ عسکریت پسندوں کی ’آن لائن نگرانی‘ میں مہارت رکھتے تھے اور انھوں نے کئی کامیاب کارروائیوں کی قیادت کی تھی۔

الطاف احمد کو یہاں ‘الطاف لیپ ٹاپ’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ الطاف احمد کی ہلاکت سے جموں و کشمیر پولیس کو بڑا دھچکا پہنچا تھا۔

جس دن کالج کا نام تبدیل کیا گیا، انتظامیہ کے بڑے افسران وہاں موجود تھے۔ پروگرام میں الطاف احمد کے اہل خانہ بھی شریک تھے۔

اسی طرح شوپیاں ضلع میں ایک سرکاری ڈگری کالج کا نام بھی ‘امتیاز احمد ٹھاکر میموریل ماڈل ڈگری کالج’ رکھا گیا ہے۔

امتیاز ٹھاکر ایک انڈین فوجی تھے اور ایلیٹ پیرا کمانڈو سکواڈ کا حصہ تھے۔ سنہ 2010 میں وہ شمالی کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک تصادم میں مارے گئے تھے۔ یہ تصادم 15 گھنٹے تک جاری رہا تھا جس میں فوج کا ایک کیپٹن بھی مارا گیا تھا۔

شوپیاں میں کالج کا نام ایک فوجی کے نام پر تبدیل کرنا بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ پچھلے کئی برسوں سے عسکریت پسندوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔

حکومت کی جانب سے نام تبدیل کرنے کا حکم

گذشتہ ستمبر جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا اور کمیٹی سے کالجوں، سکولوں، سڑکوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کی تجویز دینے کو کہا تھا۔

اکتوبر میں انتظامیہ نے 76 سرکاری سکولوں اور دیگر عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ جبکہ ان میں سے زیادہ تر سکول اور عمارتیں جموں میں ہیں۔ دوسری طرف وادی کشمیر میں 25 اداروں کے نام تبدیل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

سرکاری عمارتوں کے نام صرف فوجیوں اور پولیس والوں کے ناموں تک ہی محدود نہیں بلکہ کئی کالجوں اور سکولوں کے نام ادیبوں، گیت نگاروں، فنکاروں کے نام پر بھی رکھے گئے ہیں۔

ادیبوں اور گلوکاروں کے نام

سرینگر میں سرکاری محکمہ اطلاعات کے آڈیٹوریم کا نام تبدیل کر کے کشمیر کی مشہور گلوکارہ کے نام پر راج بیگم آڈیٹوریم رکھا گیا ہے۔ راج بیگم کا شمار کشمیر کی ان خواتین میں ہوتا ہے جنھوں نے گلوکاری کا پیشہ اختیار کیا اور وہ رکاوٹیں ہٹا دیں جو کشمیر میں خواتین کو گانے سے روکتی تھیں۔

راج بیگم کو انڈیا کے سرکاری اعزاز پدما شری سے بھی نوازا گیا تھا۔ کشمیر کی ’میلوڈی کوئین‘ کے نام سے مشہور راج بیگم کی وفات 2016 میں ہوئی تھی۔

سرینگر کے بٹ پورہ میں خواتین کے ڈگری کالج کا نام بھی کشمیر کے مشہور مصنف اختر محی الدین کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔ اختر محی الدین کو 1958 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا اور 1968 میں پدما شری سے بھی نوازا گیا۔

1984 میں جب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو محی الدین ان چند فنکاروں میں شامل تھے جنھوں نے احتجاجاً ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔

1990 کی دہائی میں جب کشمیر میں عسکریت پسندی کا دور شروع ہوا تو اختر کی تحریروں میں کشمیر کی حقیقت نظر آنے لگی۔ اختر نے عام لوگوں پر سکیورٹی اہلکاروں کے مبینہ مظالم کے خلاف احتجاجاً پدما شری ایوارڈ بھی واپس کر دیا تھا۔

سرینگر کے ایک اور کالج کا نام ڈرامہ نگار موتی لال کیمو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ موتی لال کشمیر میں لوک تھیئٹر کے تحفظ کے بڑے حامی تھے۔

کشمیر زون کے ڈویژنل کمشنر کندورنگ کے پال کا اصرار ہے کہ ‘حکومت نام تبدیل نہیں کر رہی بلکہ رکھ رہی ہے۔‘

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا خیال ہے کہ سڑکوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کرنے سے بچوں کو کشمیر کی ’اصل تاریخ‘ کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے۔

کشمیر زون کے ڈویژنل کمشنر کندورنگ کے پال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کشمیر میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اپنے شعبوں میں عظیم کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ ہماری فوج کے جوانوں کو پرم ویر چکر یا اشوک چکر بھی ملے ہیں۔ آباؤ اجداد نے جو کام کیے ہیں، ان کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ بچوں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، اسی لیے حکومت نے یہ نام رکھنے میں پہل کی ہے۔‘

پال کا اصرار ہے کہ ‘حکومت نام تبدیل نہیں کر رہی بلکہ رکھ رہی ہے۔‘

کشمیر یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے سابق پروفیسر نور احمد بابا کا خیال ہے کہ اس طرح کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں

’آپ لاٹھیوں سے نام نافذ نہیں کر سکتے‘

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد یہاں قوم پرستی کے نقطۂ نظر سے حکمرانی کی جا رہی ہے اور نام بدلنا بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔

کشمیر یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے سابق پروفیسر نور احمد بابا کا خیال ہے کہ ’مرکزی حکومت کشمیر میں قوم پرستی کو اپنے حساب سے اور اپنے ایجنڈے کے مطابق نافذ کر رہی ہے۔ اپنے جذبات رکھنے والوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ جو نام دیے گئے وہ زیادہ دیر تک نہیں چلے کیونکہ وہ مشہور نام نہیں تھے۔ لوگ ان ناموں کو قبول نہیں کرتے تھے۔ آپ لاٹھیوں سے نام نافذ نہیں کر سکتے۔‘

ان کا خیال ہے کہ یہ کام منتخب نمائندے کرتے ہیں لیکن فی الحال یہ کام انتظامیہ کر رہی ہے جو کشمیر کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔

ایسی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں؟

کشمیر میں پہلے ہی کئی سرکاری عمارتوں کو سیاسی شخصیات کے نام سے منسوب کیا جا چکا ہے۔ جموں و کشمیر کے پہلے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کا نام سرینگر میں کئی جگہوں پر نظر آتا ہے۔ ان کے نام سے ایک ہسپتال، کرکٹ سٹیڈیم اور کنوینشن ہال ہے۔

سرینگر شہر میں ڈوگرا راج کے کئی نام بھی نظر آتے ہیں۔ سرینگر کے لال چوک میں پرتاپ پارک اب بھی موجود ہے اور مہاراجہ ہری سنگھ کے نام پر سرینگر کا ایک بڑا ہسپتال بھی ہے۔

تاہم جن 76 ناموں کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں کوئی سیاسی نام شامل نہیں ہے۔

پال کا کہنا ہے کہ نام رکھنے کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا، آنے والے دنوں میں کچھ اور جگہوں کے نام تبدیل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کا ردعمل

جموں و کشمیر کی نیشنل کانفرنس پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر نام کی تبدیلی کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ یکطرفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ’دھوکہ‘ بھی ہے۔

پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے یہ سب کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ حکومت کبھی پی ایچ ای اے کو جل شکتی کا نام دیتی ہے اور ان سب چیزوں میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ ’یہ سب صرف تصویروں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس حکومت کے پاس پروپیگنڈا مشینری ہے جس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

لیکن کشمیر میں بی جے پی نے نام کی تبدیلی کو متنازع خطے میں خصوصی حیثیت کے خاتمے سے جوڑا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر کا کہنا ہے کہ کشمیر کی مقامی سیاسی جماعتوں نے یہاں کی سرکاری عمارتوں کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کے نام جوڑ دیے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ انھوں نے تمام ترقیاتی کام کرائے ہیں۔

ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اب ان لوگوں کے نام رکھے جا رہے ہیں جنھوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اب وہ لوگ امر ہو چکے ہیں۔

ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اب ان لوگوں کے نام رکھے جا رہے ہیں جنھوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اب وہ لوگ امر ہو چکے ہیں

آرٹیکل 370 کا خاتمہ

5 اگست 2019 کو نریندر مودی کی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا اور انتظامی تبدیلیاں کی گئیں تھی۔

آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد یہاں کی سرکاری عمارتوں پر کشمیر کی جگہ انڈیا کا پرچم لگا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں یوم آزادی کے پروگرام منعقد کرنے کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد نافذ کیے گئے بہت سے سرکاری احکامات پر ماضی میں تنقید کی جاتی رہی ہے۔

Leave a Reply